ہر رر رر رر رر رر رہ یی[ 3 ۵ 0

زا نزول: 9

ت

٠٦‏ کتَُُ3ََایکہییہم ‏ ہسگسم'مومإگملپهہئ ,رب مرا نام:

7 لف کو اس سورہکانام قراردماگیاے۔

زا نزول:

ارہ معیاہدہ قادہ اور متا تل نے اسے من یکھاےء لان مفسری نکی یم اخزیت ا ےکی قرار دق ے۔ اور ا کا مصنھون یہ شہادت د یقاس ےکہ ہمہ کے مھ ابق ائی دور یں نازل ہوک ہودگی جب اسلا مکی لی مکو تر اور ا چائی ول نشین فقروں مس بیا نکیا جا تانھہ کہ سے والے ایک دفہ ا نکوس نک بھولنابھی چایں ون ول یں ءاوروہ آپ سے آ نا مو کی ز باوںل پر بچڑھ جائیں-

موضو اور مضممون:

یہ سورت جائع اور من رکلا مکا بے نظ رغمونہ ہے۔ ال کے اندرچند جج ُے الفاظ یس معن یکا الیک د اھر دب یگئی ہہ سکوبیا نکر ےکا جن ایک پور یکناب میں بھی میک سے اداکیا امک ہے وس میں پالئل دوٹٹوک طر یلق سے بناد گیا کہ انسا نکیا فلا ںککاراست کون ساسے اور ال سکیا تپاتی د بر بادٹیککاراست کون سا۔ امام شاف نے ببت کہا ےک اگ لوگ اس سورت پر و رکم یی فو نی ا نکی ہدایت کے کاٹ ی ہے۔ صحاب کر ا مکی ڈگ شی لا لک اہبی تکیا تھا ء ا لکااند اذہ اس بات س ےکی جا سا ےےکہ حضرت عبد الد بی سن الد ارئی الو "0 روایت کے مطا نی ات اب رسول ا میں سے جب دو آدبی ایک دوسرے سے لے ذ اس وف ت کک جد الہ ہہوتے ‏ ج ب کک ایک دوسر ےکو سورم حصرنہ سنا لت رای

بس الوالِحَنن الٌَحَّم رکو۶

و وس وا ود کچھ ۔ کس ع کو رو ری خہرے ط۵ ١ا‏ سے مٰے و وَ العَصَر(2) (ِن الاِنسان لف خُسْر (ق) الا الزِْیْنَ امنوا وَ عَیلوا الضٰتِ و تواصَوا

کے ہے 7 ہو ١.‏ با حَق٭و تواصوابالضشبر(3)

١ رکو‎

ابد کے نام سے جور مان ور جم ہے۔

زان ےکی شم!انمان در یقت بی بڑے خمارے میس سےء سواۓ نع لوگوں کے جو ابمان لا گے اور نیک ائھا لککرتے رےء اور ایک دوسر ےکوح نکی لصججحت اور عب کی تق نکرتے ر ےل 2

.ء2696ء 6--ی>-ییچیییچی یی ّ '/) سورۃالعصر حاشی تمبر: اس سورت میں زمانے 0 ملاس بات 2 کھالی اکئی سے 7 انان بڑے ضمارے میں ہےء اور اس خمارے سے صرف دی لوگ بچے ہو ہیں جن کے اندر ار ملس اَی حجاتی ہیں:(1)ایمان(2) گل صا6ٔ(3) ایک دوسر ےک وج کی نھیبح تکرنا۔(4) ایک دوسر ےکو عب رکی تق نکرنا۔ اب ا کے ایک ایک ئ کو الیگ ےکم اس پر تو رک ناچایے کہ اس ار شا دک لو رامطلب وا سرت ہا ںکتک تح کا ملق ہے اس سے پلیلہ جار ہا ہم اس بام تک وضاہ تک کے ہی ںہ ال تعالی نے مو جات سے کسی ہچ کی فعم أم کی خظحمت یا اس کےکمالات د اص بکی ہنا پر غنی کھائی ہے ہ بکنہ لاس بنا رکھائی س ےکدہ اس بات پر داالم تکرکی سے جصے خابرتکر نا مقصود ہے یں ز ما ےکی ش میا مطلب مہ ےکک زمانہ وس تقیقت پ رگو اد ےککہ انسان بڑے نحنمارے بی سے سواے ُن لوگوں کے بن میں یہ جار صلی بای جائیٰہوں۔ ز مان کالف طگکزرے ہوے زہانے کے لیے بھی استعال جا ےء او رگحزرتے ہو نے زمانے کے یہ بھی جس میں حال ور میق کی لی مر تکانام نیس ہے۔ ہ ران گنز رکم ماضی شی ہی جاد یا ے اور ہ رن کا رر اور اکر عا لکو ما شی ہناد ہی ے۔ بیہاں چوک مطاقاز ان کی شس مکھائ یگئی سے ء اں لیے دونوں رح کے زہمانے اس کے موم میس شائل ہیں گزرے ہو ئے ز مان ےکی ش مکھان ےکا مطلب ہہ ےکلہ انسالی تار تا اس بات پر شہادت دے در بی ےکہ جو لوگ بھی ان صفات سے خالی ت دہ پالاخر خمارے میس کر رہے۔ او رگزرتے ہو ئے مان ےکی شک مکھان ےکا مطلب مجن کے لیے پیل می بات اتا پیک انا بک ت42:ہ را2 نے فان الک فی اف ان ال ک تک دنیا شی کا مکرنے کے لیے دماگیاہے۔ أم سک مال اس وق تک کیاے جو امتفا نگگاہ می طالب مل مکو پر چپے عل نے کے لے دیاجاتاے۔ یہ وقت جس تیزر فاری کے ساتق ھگزردہاے ا سکااندازہ تھوڑیی دیر کے یے اپ یکھٹری میں سیک کی سو یکو مک تکرتے ہو دیھننہ سے آ پکو ہو جات گا۔ الا کہ الیک سیلن

٠سس‏ ۰۔ء۔۰۔۱ےے۔۱مم ا ر5 ٹوو یس

۰٦٣٦٣٣٦٣٦٣٣ 0000000‏ بھی وق تکی بہت بڑکی مق ار ہے۔ اکی ایک سیلن میس رشن ایک لاک سچھیامی ہار نمی لک راستہ ل ےکر لیت ہے اور مد اکی حد ای بی بہت کی ین ای کی سی ئن ےکی ماد ضز ران اود اھ ی کک ہارے عم میس نہ آکی ہوں۔ اہم اگمر وقت ک ےگمزر ن ےکی در فیار دی بھی جاۓ جوگنٹرکی میں سن کی سوئی کے جیلے سے ہ مکو نظ تی ہے اور اس بات پر خو کیا جا ۓےکہ ہم جو بھحھ بھی اچھایاہر اٹل کرتے ہیں اور جن نکاموں میں بھی ہم مشخول رب ہیں سب بُھھ اس عحد دو برت عمری یش و توم پیر ہو ما سے جودنیائیں گ مک وکا مکمرنے کے لیے د یگئی ےن چڑیں محسوس ہو ما ےکہ جمارااصصل مار نے کی وققت سے جھ تجزکی سےگزددہاے۔ امام راز ےکی بز رر گکاقول فف لکیا ےکہ نی نے سورہ عحص رکا مطلب ایک برف فر دش ے سمپچھاج بازار میس آواز لگا پاتھاکہ ر تم ایر تخس یج س کاسر ماب یہلا جار پاے ٢ر‏ م رن تس وا کر اک سا انت اکپ کے کت ا الزذسان کی من رکا مطلب۔ ش مکی جو مرت انم کود گی ہے دہ برف کے کھل نکی طرح جیزی سے گزد ری ے۔ ا کو اگ ضا عکیاجاےء یاطلطکاموں میس ضر فک ڈالا جا نے نی انسما نکا خماردے_“ یہ ںگزرتے ہو ئۓ زمان ےکی مکھاکر جو بات اس سوروی لک یکا اس کے معتم می یک مہ تید غزار زمانہشہادت د ےر ہا ےکلہ ان جار صفات سے خالی ہدک انمان جن نکاموں میں بھی اسپقی مبلت عه رکو ضرف مر پاے ٢وہ‏ سب کے سب خمارے کے سودے ہیں۔ نف یں صرفوولو رگ یں جو الن چاروں صفات ے مشصف بوکر دخیائی کا مکمرہیں۔ یہ ایی بی بات سے جیسے ہم اس طاللب عم سے جو امخجان کے مقررووقت کواپنا پر چہ ح٠‏ لک نے کے بجام می او رام می لگزاررباہومکھرے کے اندر کے ہو ےکن کی طرف اشارہ کک ےکی ںکہب ہگزر جا اوقت بتار ہا ےکہ ت اپنانتصا نکر رے ہوہ ٹف میس صرف وو طالبِ حلم سے جو

اس وق تکاہ رمحہ ابا پر چہ ح لکرنے میں ضر فکرراے۔

۰9۱ َ)هبیییییوؤوہوجہ‎ )) ٣٠٦ اتا نک فط اکرچہ داعدرے لیکن پور ے قرے میں اس سے ژن لوگو ںک وس یک یاگکیاسے جو چیار صفات‎ سے متصف ول٤ اس لیے لا محالامیہمانناپڈ ےگ اکہ بیہاں لفظط انسان اسم جس کے طور پر استعا لک ایا ے‎ اور أ کا اطلائی اثرادء گمروہوںء اقوام اود ہو رکی نو انسای پر مکساں ہو تا ہے لیس ۶ 7" رکورہچار‎ 0 صفات سے جو بھی مالی ہو وہ خمارے میں سے ہر 7 .9 و و‎ کوگی قومء اد نیا چھ کے انسان۔ یہ ال ایمائی ہے جیے م اگ می عم لی ںککہز ہر انساان کے لیم کک سے‎ وا کا مطلب یہ ہگ کہ زہر بہرعال ملک سے خ اہ ایک فرد اا ںک ھکھائےء ما ایک لپیا ریی قومء یاساریی‎ دنا کے انان مع لک اس ےکھا جایں۔ زہ کی مہلک خاصیت اپقی جچہ ال ہے نس بیس وس اط سےکوئی‎ فرق میں پڑج ا کہ ایک نلیا نے ۷یک وکھایاے :یا ایک قوم نے اس ےکھان کا فیصل ہکیا ہے یاد ٹیا صر کے‎ اناو ںکااجما" انس پر ہ گیا ےک زہر رکھھاناجابیے۔ ٹیک ای طر رنہ بات ادا جِلّہ | سے کہ جار نم زہ‎ بالاصفخات سے نخالی ہوناانساان کے لیے خمار ےکا موجب سے۔ اس تقاعد ہکلیہ یں اس بات سےکوثی فرقی‎ یں پڑ اک ۔کوئی ایک تفص ان سے خالی ہہ کسی توم نہ اد مپاجل کے انسانوں نےکفرہ بد م٦یء او نیک‎

دوسر ےکو با١‏ لکی تر خیب دبینے اور بن دکی عش سکی مو نکر اد انا نکر لپاے۔

اب بہ دک کہ مار ےکالفظ ق ران می رکس مم میس استحا لک جات لففت کے اعتبار سے خمارہ لن کی ضدرےء اور تارت میں اس لف کا اتال اس حاات ٹیل بھی ہو ما سے ج بی ایک سودے می ںکھاا اور اس حاات میں تھی جب سارایارد پا رگا میں جار ہائہوء اور انس حاات میں تگیا جب اپناسماراص رما کھو کم آوبی دلوالیہ ہو جاے۔ تق ران ید ای لف کو اپ اص اصطلاب بناکر فلا کے منفا لے میں اتا لک رجا ہے اور جس طرں ا س کا تقصور فاح ححض دنیوبی خو شھال یکا جم معن یں ہہ بلمہ د میا سے لن ےکم آخرت کک انسا نکی تی یکا میاپی پر حادئی سے ءاسی طر ‏ أ کا تصمور خسان بھی شض دنیدىی ناکا ھی یا خنتہ حا یکا ہم معخی میں ےء بلہ دٹیا سے ےکر آخر ت کک انما نکی خبتی ناکائی ونام ادگ پر عاوی ے- فلا اور

٦‏ یس ہ‌ہ‌ہ''کیمممصٌص0٣عع-۔م۔مٌمص‏ ة1 خر انء دونوں کے قق رآ لی تقو رکی تق رع اس سے یہ ہم متعدرد مقامات پ کر گے ہیں اس لیے ان کے اعاد ےک عاجت یں ے۔(ملاحظہ ہوء تیم ال مر آنء جلر دروم الا گم اف عاشیہ 9- الانفالء حاشیہ 30- وٹ حاشیہ 23۔ بی اسرائل “حاشیہ 102۔ جلد سومء اج حعاشی 17۔ الم ومنونء حواشیء 11-2-1۔50۔ جلد چہارمء لقمانء حاشیہ الزھر ‏ حاشیہ 34) اس کے ساتھ بیہ بات تھی انی طرح ٹین اہ کہ اگکرچہ ق رآ نکہ نزدیک تناقی فلا آخرت می انسا نکی کامیالیءادر نیقی خسار دہاں ا سکی اکا ئی ے, لین ِس د خیش بھی جس چک نام لوگوں نے فلا رک مھ وڑا سے وو وراصصل فا مین سے بللہ ام کا امام خود ای دنیایٹش خماردےء اور جس چے زکولوگ خمارہ یت ہیں دہ درا صصل از ین ہے بکمہ اس دٹیاشی بھی وہی فلا کا ذدیجہ ہے۔ ال حقیقی تکو ق ران ید ی۲ لکئی مقامات پر یا نکیاگیاسے اورہ رہم نے ا سکی تق رج حکردی سے( ملاحظہ ہو : تیم الق رآ نء جلد دومء اٹل حاشیہ 99۔ جلد سومء ری حاشیہ 53ط حاشیہ 105 جل شش )الیل ء حا شی 5-3 یں جب ق رآلن لپ رے زور اورقطحیت کے ساتق ھکبتا کہ در مقیقت انسان بڑے خمارے بین سے مک نے ا سکا مطلب د تیاور آخرت ووٹو ںکا خماردے اورجب وہ٥‏ پا ےک اس خمارے سے صرف د ہلوگ بچے ہو ۓ ہیں جن کے انعد رب یی جار صفات ای ای ہیں فا کا مطلب دونوں چہانوں بی خمارے سے پچنااور فلا باناے۔ اب ہیل ان چیاروں صفا تکود یھنا چاپیے مجن کے پا جانے پد اس سو کی روسے انسا نکا خمارے سے

وت

تفوظا رہنامو توف ے_

ان یس مکی صفت ابمان ے۔ یہ لفط گر جہ ٹن منقامات پر ة آئن ید بیس شس زبانی اقرار ایمان ے مصتی میں بھی استعا لک امیا ے۔ ( خلا النماءء آیت 137۔ الماکدہہ آیت ۹4۔ الانقالء آیت 27-20- لتق بر ء یت 38۔ ااصفء آبیت 2 میں ) لین اا کا اصل استعال ہے دل سے مائے اور شی نکرنے کے

صن بی می ںکیاکیاےء اور عربی ز پان یس بھی اس لفظط کے بی معن ہیں للخت میں اصع نے کے متنی ہیں :

۔ سا لد

تَا حصَسَت تق( سک تد کی اوداس پر اعخمادکیا) اور شع بل کے مق ہیں: ان بد

وا حگکردماگیاے۔ : 0+ .- طٰ 4 رر و نما الم نون الین امنوا بِالہِ2َرَمُويِه ثْمَلِمَیَزتَابُ وا ا ۂات۔15) مومن و تفیقت میس دہ ہیں جو اللد اور اس کے ر سو پیر ایمان لائۓ اور پچ رک میں نہ ڑے۔ الٰهُكُۃَامَتَةاموا(م۱ سر نصلت۔آیت30) ہن لو رگن نے 9 اکمہ ہار ارب الد اور پھر ای پرڈٹ گ۔ 1 کید ے لیڈ 7 ںٰٰ مو و ۰ الما الَْؤمنونَ الَيْكِكَاِذَا ذِٛرَاللٰهوَجدَت قُلوَبفن(ال نقال2) مو صن فو تقیقت میں دوہی ںکہ جب ال کا ذک رکیاجائے ے الع کے و لکرز جات بہیں۔

ان الَذْيْنَ قَالوا رَبُتا

الین اصس نوا ضس ارات 165)

اور چھ لوگ ابمان لا یں ء ود سب سے ہز "للخ محبت ر کت ہیں_ فَلَاوَربِكَ لا يؤسنُونَ عق مو2 یا َبَرِبَيْتَغُهُمَلَيَدُا ق3 ان عَرمَائنا قَضِيْتَوَيْملِمُوا شیج( ك٥65)‏ یی نے با ضف ) تہارے رب 7 نم اد ہر تر یں ہیں ج بکک ,ھ2 بی اتااف ٹیس تک بیس فی ہکرنے والاشہ مان یس ء رج یھ تم فیصل کر واس پر اپن دلوں میں بھ یکوئی گی محسوس نہ 9 ان یش تھی زیادہ ا آیت میں ز بای اقرار ایمان اور نٹ ایما نک فرق ظاہ رکیاکھیاے اور مہ بتاماگیا ےکہ اصل مطلوب نیقی ابیمان سے ن کہ ز بای اقرار:

٦‏ ۶ ییییگکیبی ی ‏ .. .۔..1 .اہک ارا

ھا الْزِيْنَ ام نوا سوا باہو مُویہ(ااضاءءآت136)

اےلو رگ جو ایمان لائے ۴و۱ یمان لا اور اس کے رسول مل پر اب د ہا سوا لک ایھان لانے ےکن جچیزوں پر ایمان لا نام راد تو ق رآ ید یس ہو ری رح اس بات کو چھ یکھو لکھو یکر بیا نکد یاگھیاے۔ اس سے راد اولاء اڈ دکو انتا ے۔ مھ اس کے وج دکو مان یں بللہ سے اس حیثیت سے انا ےک دای الیک مد اہے۔ مد ای می لکوٹی ا کا ش کیک نیس ہے۔ وجی لو کا تی ےکہ انسمان ا لک عبادتہ بندگی اور اطانعت بھا لا ئے۔ ودی شھنتیں بنانے اور پگاڑنے والا ے۔ بن ےکواسی سے ڈعاماگنی چاہے اور ای پر نوک لک ناچا ہے ددی عم دینے اور حت عکمرنے ولا ہے۔ بنرے کا ف رخ ےکہ اس کے ع کی اطاختکرے اود شس یز سے اس نے مت کیا ہے اس سے رک جائے۔ وہ سب پکتھ دنہ اور نے والا ےء اس کل انا نکاکوئی نل فو و رکزارہ وہ متصد اور نیت بھی لی غڑیں سے جس کے ساتھ اس تن ےکوئی تع لکیاے۔. تا نا رٹ کو مانناء اس حیشیت سس ےک دہ اللہ تھا یکامامو رکیاہہو ا ادگ در جنماےء اور جس پچ کی نیم بھی اس نے دی ن اوہ اللہ تعال کی طرف سے سے برع سے اور واجب النلیم ہے۔ ام ایھان بالرسمالت مس ملا لہ ہاخیاء اورک ہے پرہ اود خود ق رن پ بھی ایمان لان شال ے مک وکلہ مین تلیمات یں سے ے جواال کے رسول مک نے دی ہیں شال ار تکو ما وس حیشیت سےکہ انسا نکی موجو دہز ن دکی مکی اور آخ بی زن دی نیس سے بلکہ مرنے کے إر انمال یکو دوپارہ زئرہہو کر انا ے٤‏ اپنے ان اعما لکاجو اس نے ود نا 11 گی یس سے ہیں مد اک و حماب دیٹاے اور انس معیاسپہ یش جو لوگ نیک قراد پائیں انی چڑا اور جھ بد تقراربالئیں ا نکو سزانی ہے۔ مہ ایمان اغلاقی اور یرت وکردار کے لیے اسیک مضبوط بفیاد فر اگ مکردیتاے ‏ ٹس پر یک پاکیزہزندگ یکی عمارت قائم ہوستی ہے۔ ودنہ چچہائی رے سے مہ ایمان بی موجودنہ ہو وہاں انسا نکی زن گی خحو ا ہکفئی بی خوش کیو نہ ہوء

1۶٦١‏ :864161-ب8هِه.هث؛ں۔ب۔بک یئ ٹ--پب-م- ‏ :-۰یکتچتآمئئلل[ ”و مہا ا سکاحال ایک بے لنکر کے جچہازکاساہو تا ےج موجوں کے سان متا چلا جا تاے او رکیں قرار یں پھڑ سک یمان کے بععد دوس ری صفت جو انسما کو خمارے سے ھانے کے لے ضروری سے وہ صالیات (نیک کا موں) پر قح لک ناہے۔ صالیا تک لفظط تام نیو ں کا جائع سے نجس سے بی اور لئ یک یکوکی تم تھی یں رہ جائی۔ لیکن ق رآ نکی رو ےکوئی تخل بھی اس وق تک عمل صا نیس ہو سکتاج بکک ا سک جڑ میں ابمان موجو دش ہوء اور وہ ال پر ایت کیرک ظ دز کیا جا جو الد اود اس کے رسول سی نے دی ہے۔ائی لیے ق رآن ید یں ہ رہہ قمل صا سے پییلے ایا نکا ذک ہکیاگمیاسے اود سس سورہ ٹیس بھی سکا ذکایمان کے بعع ہی آیاے ۔صی ای کہ بھی ق رن میں ایمان کے بخی کسی مم لکوصا فی سکھاکیاے او نہ کل با یمان پ شی اج ہکی امیر دلاگیگئی ہے۔ دوس ری طرف مہ بھی الیک یقت ےةکہ ایمان دجی مع اور می ہے جس کے صادق ہو کاشیو انان اپنے عحل سے یی یکھرے۔ ودنہ یمان بلا مل صا شض ایک دعوىی سے مج سکی تردیید آدبی خودج قکرد اس جب وہ اس دعڑے کے پاوچود اللہ اور اس کے رسول یط سے بنا ہو ۓ طر ے سے ہٹ کم چنا ہے۔ ایمان اور 0 ملق بج اور و رش تکاس ہے۔ج ب کک ےزین میں دہ ہو ءکوئی درخشت پیر اغمیں ہو سکنا۔ مکی اگر بی م۳ن میس ہو او رکو کی درشت پیراننہ ہوا ہو تاس کے مع ىہ ہی کہ نے زین بیس دشن ہوک در ہگیا۔ ای بنا ق ران پاک میں جئی ظا قیں بھی د یگئی ہیں انی لوگو ںکود یکئی ہیں جو ایمان ا اکر کل صا کہ بییء اور می بات اس سورہ میس جھ یک یکئی ےہ انسما نکو خمارے سے بھیانے کے لیے جو دوس ری صفت ضمروری سے وہ ابمان کے بعد صالیاتہ پر عم لک اے۔ بالفاط دمگر حل صا کے بقی رض ایمان دہ یکو خمارے سے نی با لا۔ کورہپالا دو شی تو دہ ہیں جو ایک ایک فرد یل بہوکی چاڑیں۔ اس کے بعد یہ سورت دو زی صضں بیان ری سے جو خمارے سے سینے کے لے ضمروریی ڈیںء اود د٥‏ یہ ہی کہ ابیمالن لاے اور لا از ےا نے

ت۶۳۳ ص6صی6کصکببییَ ممممآپآپں>و؛؛؛؛؛؛ "۷" اگ ایک دوسر ےکوع کی تحیحت اور عب رکی علق نکر میں اس کے مصعف مہ بی کہ او تو ایمانع لانے اور کر لو نار تنا تن کے اتا ات ایک مونضدت ار

٭٭

وجود ٹل آناچاے- دوسرےء اس معاششرے کے ہر فردکو ایق ىہ ذمہ داریی سو کر ی چاہ کہ وہ معاشر ےک و جکڑڑنے نہ دے اس لیے اس کے ققام افرادیر یہ فرح عائد ہو ماس ےک د ایک دوسر ےکو جن اور صب کی علقی نکرمیں۔

20 کی ضدرےء اور پا لوم یہ دو متنوں میس استمال ہہو تا ہے : ایک ء وھ اور مطابق عدل و الصاف اور مطالٌ ا ا ا ا ا رس معامطات رے- دوسرے وہ عق جس کا اداک نا الع پر واجب ہوہ خ اوہ خد اکا عق ہوہ یا بندو ںکا عق ء یا شود ا لف س کا من بیس ایک دوسر ےکو ح کی نسح تکرین ےکا مطلب ہہ ےک ال ایا نکا یہ معاخش رہ ایا ٹے س نہ ہو ۴ و0927 سر اٹھار باہو اور حقن کے خلا فکام سے جار سے ہوں گر لوگ نا مو شی کے سراتھ اہ کا تماشاد یک ر ہیں ء بللمہ اس معاششرے مس یہ رو جارکیاو دی ر ےکہ جب اور جہاں بھی باعل سس را ٹھائےء کہ عل نے وانے اس کے مقاے بی اط ھربھٹرے ہوںء اور معاشر ےکا ہر فرد صرف خوددی عفن رس اور را تیاڑک اور عرل و اآصاف پر ائم رے اور جن داروں کے عقوق اداکمرنے پر اکنقانہکھرےء بللہ ووصرو ںکو بھی اس طرز عم لکی تی تکرے۔ بہ وہ چزے جو معاشر ےکو اغلاتی زوال و انحطاط ے ان ےکا ضامع ہے۔ اگ مہ رو ںصی معاشرے میں موجو دہ رے فو شس ران سے نیس بی لزا ء اور زس شس ان میں وولوگ بھی آخ رکا ملا ہ کہ رت ہیں ج ابق مہ عق پر قائم ہو گر اپنے معاشرے میں من کوپامای ہوتے دیکھنتے ر ہیں .کی بات سے جو سوردماندہ مس فرما یگئی کہ بی اصرائل پر رت داوڈ اور حطرت عی این ری مکی زبان سے لعف تک یگئی۔ اور اس لحم تکی وجہ یہ ش یکلہ ان کے معاشرے میں گنزاہوںل اور ز یاد تو کا ہاب عام ہر ہانھااور لوگوں نے ایک دوصر ےکوبرے افعال سے ر کٹا پھوڑ دیا

011 گیمچ'کع:ٗ۔111یلگلآگییییہی‎ ّ و۹‎ ٣٠٢ تھا( آیاتہ 79-78) پھر اسی با تکو سورہ اعراف میس انس رب بیان فرما گیا ےکہ بی اص رائیلی نے‎ ج بجع مکھطا سبت کے اکا مکی خلاف ورز یکر کے مچھلیا ں یڑ یش رو عکر دی نان پر ع اب ناز لک دیا‎ گیاءادر اش عذ اب سے صرف ودی لوگ بھیاۓ گے جو ا گناہ سے روک ےک یکو شن کرت ےآ یاتء‎ )اود ائی با تکو صودہ انفال ٹل بوں میا نکیا گیا کہ چو اس تفہ سے ج سکی امت‎ 3 خص وص طور پر صرف انی لوگو لکک محر ودنہ ر ےگی جنہوں نے مم میں ےمنا ہکیا ہو( آیت 25) ای‎ لیے اھر پالکعروف اور ٹمی عن الھک رکو امت مسلمہکافریضہ قرار دماگیاے (آل عمرائن۔ 104) اور اس‎

امم کو پش بین ام تکہاگیا سے جو مہ فرییضہ امجام دے(آل عمران110)

نکی ٹصحیحت کے ساتھ دوس ری چزجھ ائل ایمان اور ان کے معاشر ےکو خمارے سے بھانے کے لیے ش رط لازم قرار دک یگئی ہے دہ یہ ےک اک معاشرہکے افراد ایک دوسر ےکو عب رکی نکی نکرتے رہیں۔ یچنی ج نکی پروی اور ا سکی حمایت مس جو مشکلات ٹیل آلی ہیں ء اور اس راہ میس جن محعالیف سے جن مشقتوں ے) جن مصاحب سے اور جن نقصانات اور مھ رومیوں سے انسا نکوسابقشہ یں آستاےء ان کے مقالےے میس دہ ایک دوسر ےکوثابت قلدم رہ ےکی تنفقی نکھرتے ہیں ا ن کا ہرفرددوصر ےک ہمت بندھاتار ےک وہ ان عالا تکو عبر کے ساتھ برداش تکرے۔ (عزید نش رج کے لے ملاحظہ ہو تغل یم اق مآن جل در ششمءالدھ ‏ حاشیہ 16۔ البلدعاشی14)

ھسکھِ _